المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
جدامة بنت وهب الأسدية باب: سیدہ جدامہ بنت وہب اسدیہ رضی اللہ عنہا
حدیث نمبر: 20905
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ جُذَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ، قَالَتْ: حَضَرْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاسٍ وَهُوَ يَقُولُ: " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغَيلَةِ فَنَظَرْتُ فِي فَارِسَ، وَالرُّومَ فَإِذَا هُمْ يُغِيلُونَ أَوْلَادَهُمْ فَلَا يَضُرُّ أَوْلَادَهُمْ شَيْئًا، ثُمَّ سَأَلُوهُ عَنِ الْعَزْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَاكَ الْوَأْدُ الْخَفِيُّ، وَهُوَ (إِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ) "ترجمہ
اور روم کے لوگ، تو وہ اپنی اولاد کے ساتھ غیلہ کرتے ہیں مگر اس سے ان کی اولاد کو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ پھر لوگوں نے آپ ﷺ سے عزل کے بارے میں پوچھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ پوشیدہ وأد (زندہ دفن کرنا) ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ”اور جب زندہ دفن کی گئی بچی سے پوچھا جائے گا“ [سورۃ التکویر: 8]۔