المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
بهيسة باب: سیدہ بہیسہ رضی اللہ عنہا
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ مَنْظُورٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهَا بُهَيْسَةُ، قَالَتِ: اسْتَأْذَنَ أَبِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَدْخُلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَمِيصِهِ فَأَذِنَ لَهُ فَدَخَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَمِيصِهِ مِنْ خَلْفَهِ فَجَعَلَ يَلْتَزِمُهُ، وَيَمْسَحُ صَدْرَهُ بِظَهْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟، قَالَ: " الْمَاءُ، قَالَ: أَيْ رَسُولَ اللهِ مَا الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟، قَالَ: الْمِلْحُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟، قَالَ: «إِنْ تَفْعَلِ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ، وَانْتَهَى» قَوْلُهُ إِلَى الْمَاءِ، وَالْمِلْحِ، قَالَتْ: فَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ لَا يَمْنَعُ شَيْئًا مِنَ الْمَاءِ، وَإِنْ قَلَّ
، تَمْلِكُسیدہ بہیسہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میرے والد نے نبی کریم ﷺ سے اجازت مانگی کہ وہ آپ ﷺ کے (جسم) اور آپ کی قمیص کے درمیان داخل ہوں، آپ ﷺ نے انہیں اجازت دے دی، تو وہ پیچھے سے آپ ﷺ کے (جسم) اور قمیص کے درمیان داخل ہو گئے اور آپ ﷺ سے لپٹنے لگے اور اپنا سینہ نبی کریم ﷺ کی پشت سے ملنے لگے، پھر انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! وہ کیا چیز ہے جس کا روکنا حلال نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پانی“، سائل نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! وہ کیا چیز ہے جس کا روکنا حلال نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نمک“، اس نے پھر پوچھا: یا رسول اللہ! وہ کیا چیز ہے جس کا روکنا حلال نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم بھلائی کرو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے“، اور آپ ﷺ کی بات پانی اور نمک پر ختم ہو گئی۔ وہ کہتی ہیں: چنانچہ وہ شخص (میرے والد) پانی میں سے کوئی چیز روکتے نہ تھے، خواہ وہ کتنی ہی کم کیوں نہ ہو۔