حدیث نمبر: 2088
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَمَةَ الرَّازِيُّ، ثنا أَبُو زُهَيْرٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: شَهِدْتُ الْأَحْنَفَ بْنَ قَيْسٍ يُحَدِّثُ عَمَّهُ، وَعَمُّهُ جَارِيَةُ بْنُ قُدَامَةَ وَهُوَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ قُلْ لِي قَوْلًا يَنْفَعُنِي وَاقْلِلْ لَعَلِّي أَعْقِلُهُ قَالَ: «لَا تَغْضَبْ» ثُمَّ عَادَ، فَقَالَ: «لَا تَغْضَبْ»
ترجمہ

راوی کہتے ہیں: میں نے احنف بن قیس کو دیکھا کہ وہ اپنے چچا کو حدیث سنا رہے تھے، اور ان کے چچا سیدنا جاریہ بن قدامہ رضی اللہ عنہ تھے، اور یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے تھے، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسی بات بتائیے جو مجھے فائدہ دے، اور مختصر رکھیے تاکہ میں اسے سمجھ سکوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”غصہ نہ کرو۔“ پھر انہوں نے سوال دہرایا، تو آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ”غصہ نہ کرو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 2088
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 263، حدیث 2101