المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
بسرة بنت صفوان بن نوفل بن أسد بن عبد العزى بن قصي " خالة مروان بن الحكم وهي جدة عبد الملك بن مروان " باب: سیدہ بسرہ بنت صفوان بن نوفل بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قُصی رضی اللہ عنہا، مروان بن حکم کی خالہ اور عبدالملک بن مروان کی نانی
حدیث نمبر: 20877
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ: كَانَ عِنْدَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَسُئِلَ عَنْ مَسِّ الذَّكَرِ، فَلَمْ يَرَ بِهِ بَأْسًا، فَبَعَثَ مَرْوَانُ بَعْضَ حَرَسِهِ إِلَى بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، فَقَالَ: حَدَّثَتْنِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا مَسَّ الرَّجُلُ فَرْجَهُ بِيَدِهِ فَلَا يُصَلِّي حَتَّى يَتَوَضَّأَ» ، فَرَجَعَ فَقَالَ: قَالَتْ: نَعَمْ فَكَانَ أَبِي بَعْدُ يَقُولُ: مَنْ مَسَّ رُفْغَهُ أَوْ أُنْثَيَيْهِ فَلْيَتَوَضَّأْترجمہ
عروہ نے اس میں کوئی حرج نہ سمجھا، تو مروان نے اپنے کسی پہرے دار کو بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجا، اس نے واپس آ کر کہا: انہوں نے مجھے بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب آدمی اپنے ہاتھ سے اپنی شرمگاہ چھوئے تو وہ نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ وضو کر لے۔“ اس نے کہا: انہوں نے ہاں میں جواب دیا۔ اس کے بعد میرے والد (عروہ) کہا کرتے تھے: جو اپنی ران کا جوڑ یا فوطے چھوئے وہ وضو کر لے۔