المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
بسرة بنت صفوان بن نوفل بن أسد بن عبد العزى بن قصي " خالة مروان بن الحكم وهي جدة عبد الملك بن مروان " باب: سیدہ بسرہ بنت صفوان بن نوفل بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قُصی رضی اللہ عنہا، مروان بن حکم کی خالہ اور عبدالملک بن مروان کی نانی
حدیث نمبر: 20863
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرِ بْنِ الْبُحْتُرِيُّ الطَّائِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: ذَكَرَ مَرْوَانُ أَنَّهُ يُتَوَضَّأُ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ إِذَا أَفْضَى إِلَيْهِ الرَّجُلُ بِيَدِهِ، فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ فَقُلْتُ: لَا وُضُوءَ عَلَى مَنْ مَسَّهُ، فَقَالَ مَرْوَانُ: أَخْبَرَتْنِي بُسْرَةُ بِنْتُ صَفْوَانَ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ مَا يُتَوَضَّأُ مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَيُتَوَضَّأُ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ» قَالَ عُرْوَةُ: «فَلَمْ أَزَلْ أُمَارِي مَرْوَانَ حَتَّى دَعَا رَجُلًا مِنْ حَرَسِهِ، فَأَرْسَلَهُ إِلَى بُسْرَةَ يَسْأَلُهَا عَمَّا حَدَّثَ مِنْ ذَلِكَ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ بُسْرَةُ بِمِثْلِ الَّذِي حَدَّثَنِي عَنْهُ»ترجمہ
مروان نے کہا: مجھے بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو ان چیزوں کا ذکر کرتے سنا جن سے وضو ہوتا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اور عضو تناسل چھونے سے وضو کیا جائے۔“ عروہ کہتے ہیں: میں مروان سے اس بارے میں بحث کرتا رہا یہاں تک کہ انہوں نے اپنے پہرے داروں میں سے ایک شخص کو بلایا اور اسے بسرہ کی طرف بھیجا کہ ان سے اس بارے میں پوچھے جو انہوں نے بیان کیا تھا، تو بسرہ نے انہیں وہی جواب بھیجا جو مروان نے مجھے ان کی طرف سے بتایا تھا۔