المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
بسرة بنت صفوان بن نوفل بن أسد بن عبد العزى بن قصي " خالة مروان بن الحكم وهي جدة عبد الملك بن مروان " باب: سیدہ بسرہ بنت صفوان بن نوفل بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قُصی رضی اللہ عنہا، مروان بن حکم کی خالہ اور عبدالملک بن مروان کی نانی
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: ذَكَرَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ فِي إِمَارَتِهِ عَلَى الْمَدِينَةِ أَنَّهُ يُتَوَضَّأُ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ إِذَا أَفْضَى إِلَيْهِ رَجُلٌ بِيَدِهِ، فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ، وَقُلْتُ: لَا وُضُوءَ مِنْ مَسِّهِ، فَقَالَ مَرْوَانُ: أَخْبَرَتْنِي بُسْرَةُ بِنْتُ صَفْوَانَ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ مَا يُتَوَضَّأُ مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُتَوَضَّأُ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ» قَالَ عُرْوَةُ: «فَلَمْ أَزَلْ أُرَاجِعُ مَرْوَانَ فِي ذَلِكَ حَتَّى دَعَا رَجُلًا مِنْ حَرَسِهِ فَأَرْسَلَهُ إِلَى بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ فَسَأَلَهَا عَمَّا حَدَّثَتْهُ مِنْ ذَلِكَ فَأَرْسَلَتْ بُسْرَةُ بِمِثْلِ الَّذِي حَدَّثَنِي عَنْهَا مَرْوَانُ»عروہ بن زبیر کہتے ہیں: مروان بن حکم نے مدینہ پر اپنی امارت کے دوران ذکر کیا کہ جب آدمی اپنا ہاتھ عضو تناسل تک پہنچائے تو اسے چھونے سے وضو کیا جائے، میں نے اس کا انکار کیا اور کہا: اسے چھونے سے وضو نہیں، تو مروان نے کہا: مجھے بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو ان چیزوں کا ذکر کرتے سنا جن سے وضو ہوتا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عضو تناسل چھونے سے وضو کیا جائے۔“ عروہ کہتے ہیں: میں اس بارے میں مروان سے مسلسل مراجعت کرتا رہا یہاں تک کہ انہوں نے اپنے پہرے داروں میں سے ایک شخص کو بلا کر بسرہ بنت صفوان کی طرف بھیجا اور ان سے اس بارے میں پوچھا جو انہوں نے بیان کیا تھا، تو بسرہ نے وہی جواب بھیجا جو مروان نے مجھے ان کی طرف سے بتایا تھا۔