حدیث نمبر: 20816
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ، تَقُولُ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ يَوْمًا، وَعِصَابَةٌ مِنَ النِّسَاءِ قُعُودٌ، فَأَلْوَى يَدَهُ الْيُمْنَى بِالسَّلَامِ وَتَبَسَّمَ إِلَيْهِنَّ، وَقَالَ: «إِيَّاكُنَّ وَكُفْرُ الْمُنَعَّمِينَ» فَقَالَتِ امْرَأَةٌ: أَعُوذُ بِاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ مِنْ كُفْرَانِ نِعَمِ اللهِ قَالَ: «إِنَّ إِحْدَاكُنَّ يَطُولُ أَيْمَتُهَا ثُمَّ يَرْزُقُهَا اللهُ الْبَعْلَ، وَتُفِيدُ الْوَلَدَ وَقُرَّةَ الْعَيْنِ، ثُمَّ تَغْضَبُ الْغَضْبَةَ فَتُقْسَمُ بِاللهِ مَا رَأَيْتُ مِنْهُ سَاعَةً خَيْرًا قَطُّ، فَذَلِكَ مِنْ كُفْرَانِ نِعَمِ اللهِ، وَذَلِكَ مِنْ كُفْرَانِ نِعَمِ اللهِ، وَذَلِكَ مِنْ كُفْرَانِ نِعَمِ اللهِ»
ترجمہ

راوی کہتے ہیں: میں نے سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کو یہ کہتے سنا: ایک دن رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف لائے اور عورتوں کی ایک جماعت بیٹھی ہوئی تھی، آپ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ ہلا کر سلام کیا اور ان کی طرف مسکرائے، اور فرمایا: ”نعمتوں کی ناشکری سے بچو۔“ ایک عورت نے کہا: یا رسول اللہ! میں اللہ کی نعمتوں کی ناشکری سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کی شادی میں دیر ہو جاتی ہے، پھر اللہ اسے شوہر عطا کرتا ہے، اور اس سے اولاد اور آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرماتا ہے، پھر وہ کسی وقت غصے میں آ کر اللہ کی قسم کھا کر کہتی ہے: میں نے اس سے کبھی کسی گھڑی بھلائی نہیں دیکھی، یہ بھی اللہ کی نعمتوں کی ناشکری ہے، یہ بھی اللہ کی نعمتوں کی ناشکری ہے، یہ بھی اللہ کی نعمتوں کی ناشکری ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20816
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 177، حدیث 445