المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عبد الله بن عثمان بن خثيم، عن شهر بن حوشب باب: عبداللہ بن عثمان بن خثیم کی شہر بن حوشب سے روایات
حدیث نمبر: 20799
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ عَمْرٍو الْعُكْبَرِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ لَمْ يَرْضَ اللهُ عَنْهُ أَرْبَعِينَ يَوْمًا إِنْ مَاتَ مَاتَ كَافِرًا، وَإِنْ تَابَ تَابَ اللهُ عَلَيْهِ، وَإِنْ عَادَ كَانَ حَتْمًا عَلَى اللهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ؟ قَالَ: «صَدِيدُ أَهْلِ النَّارِ»ترجمہ
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جو شخص شراب پیئے، اللہ چالیس دن تک اس سے راضی نہیں ہوتا، اگر وہ اسی حالت میں مر جائے تو کافر ہو کر مرے گا، اور اگر توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول کر لے گا، اور اگر دوبارہ لوٹ آئے تو اللہ پر لازم ہے کہ اسے طینۃ الخبال پلائے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! طینۃ الخبال کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جہنمیوں کے زخموں کی پیپ۔“