حدیث نمبر: 20797
حَدَّثَنَا خَلْفُ بْنُ دَاوُدَ الْعُكْبَرِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى النِّسَاءِ فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ، فَإِذَا أَنَا مَعَهُنَّ فَسَمِعَ أَصْوَاتَهُنَّ، فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، إِنَّكُنَّ أَكْثَرُ حَطَبِ جَهَنَّمَ» فَنَادَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكُنْتُ جَرِيئَةً عَلَى كَلَامِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ لَمَ؟ قَالَ: «لِأَنَّكُنَّ إِذَا أُعْطِيتُنَّ لَمْ تَشْكُرْنَ، وَإِذَا ابْتُلِيتُنَّ لَمْ تَصْبِرْنَ، فَإِذَا أُمْسِكَ عَنْكُنَّ شَكَوْتُنَّ، وَإِيَّاكُنَّ وَكُفْرَانَ الْمُنَعَّمِينَ» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا كُفْرَانُ الْمُنَعَّمِينَ؟ قَالَ: " الْمَرْأَةُ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ وَقَدْ وَلَدَتْ لَهُ الْوَلَدَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ فَتَقُولُ: مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ "
ترجمہ

سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد کے ایک جانب عورتوں کی طرف تشریف لائے، اور میں بھی ان کے ساتھ تھی، تو آپ ﷺ نے ان کی آوازیں سنیں، تو فرمایا: ”اے عورتو! تم جہنم کا زیادہ ایندھن ہو۔“ تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو پکارا، اور میں آپ ﷺ سے بات کرنے میں دلیر تھی، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیونکہ تمہیں جب دیا جاتا ہے تو شکر نہیں کرتیں، اور جب آزمائش میں ڈالی جاتی ہو تو صبر نہیں کرتیں، اور جب تم سے روکا جاتا ہے تو شکایت کرتی ہو، اور نعمتوں کی ناشکری سے بچو۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! نعمتوں کی ناشکری کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عورت اپنے شوہر کے پاس ہوتی ہے اور اس کے لیے دو دو تین تین بچے جن چکی ہوتی ہے، پھر بھی وہ کہتی ہے: میں نے تجھ سے کبھی کوئی بھلائی نہیں دیکھی۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20797
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 168، حدیث 426