حدیث نمبر: 20773
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِنَا، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا لِبَعْضِ حَاجَتِهِ، ثُمَّ خَرَجَ فَشَكَتْ إِلَيْهِ الْحَاجَةَ فَقَالَ: «كَيْفَ بِكُمْ إِذَا ابْتُلِيتُمْ بِعَبْدٍ قَدْ سُخِّرَتْ لَهُ أَنْهَارُ الْأَرْضِ وَثِمارُهَا فَمَنِ اتَّبَعَهُ أَطْعَمَهُ وَأَكْفَرَهُ، وَمَنْ عَصَاهُ حَرَمَهُ وَمَنَعَهُ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ الْجَارِيَةَ لَتُحْبَسُ عَلَى التَّنُّورِ سَاعَةً تَخْبِزُهَا، فَأَكَادُ أفْتَتِنُ فِي صَلَاتِي فَكَيْفَ بِنَا إِذَا كَانَ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: «إِنَّ اللهَ يَعْصِمُ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَئِذٍ بِمَا يَعْصِمُ بِهِ الْمَلَائِكَةَ مِنَ التَّسْبِيحِ، إِنَّ بَيْنَ عَيْنَيْهِ - كافر - يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتَبٍ وَغَيْرِ كَاتَبٍ»
ترجمہ

”… ہم میں سے کسی نے مجھے بتایا کہ نبی کریم ﷺ اسماء بنت عمیس کے پاس کسی ضرورت کے تحت تشریف لائے، پھر باہر نکلے تو انہوں نے آپ ﷺ سے اپنی تنگ دستی کی شکایت کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا کیا حال ہوگا جب تم ایک ایسے شخص کی آزمائش میں مبتلا ہو گے جس کے لیے زمین کی نہریں اور پھل مسخر کر دیے گئے ہوں گے، جو اس کی پیروی کرے وہ اسے کھلائے گا لیکن اسے کفر میں ڈال دے گا، اور جو اس کی نافرمانی کرے وہ اسے محروم رکھے گا اور روک دے گا؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! لڑکی تندور پر روٹی پکانے کے لیے کچھ دیر رکی رہتی ہے تو میں تک اپنی نماز میں فتنے کے قریب ہو جاتی ہوں، تو اس وقت ہمارا کیا حال ہوگا جب ایسا ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس دن اللہ مومنوں کو اسی طرح محفوظ رکھے گا جس طرح فرشتوں کو تسبیح کے ذریعے محفوظ رکھتا ہے، اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان - کافر (لکھا ہوگا) - جسے ہر مومن پڑھ لے گا، خواہ لکھنا جانتا ہو یا نہ جانتا ہو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20773
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 157، حدیث 402