المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أبو شداد، عن مجاهد، عن أسماء باب: ابوشداد کی مجاہد کے واسطے سے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 20771
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا يُونُسُ، عَنْ أَبِي شَدَّادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ: كُنْتُ صَاحِبَةَ عَائِشَةَ الَّتِي هَيَّأَتْهَا وَأَدْخَلَتْهَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ مَعِي، فَمَا وَجَدْنَا إِلَّا قَدَحًا مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبَ مِنْهُ، ثُمَّ نَاوَلَهُ الْجَارِيَةَ فَاسْتَحْيَتْ، فَقُلْتُ: لَا تَرُدِّي يَدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَرِبَتِ الْجَارِيَةُ ثُمَّ قَالَ: «ناوِلِيهِ صَوَاحِبَكِ» فَقُلْنَ: لَا نَشْتَهِيهِ فَقَالَ: «لَا تَجْمَعْنَ كَذِبًا وَجُوعًا» قُلْتُ: إِنْ قَالَتْ إِحْدَانَا لِشَيْءٍ نَشْتَهِيهِ لَا نَشْتَهِيهِ أَيُعَدُّ ذَلِكَ كَذِبًا؟ فَقَالَ: «إِنَّ الْكَذِبَ يُكْتَبُ كَذِبًا حَتَّى إِنَّ الْكَذْبَةَ تُكْتَبُ كَذْبَةً»ترجمہ
”… تو ہمیں دودھ کے ایک پیالے کے سوا کچھ نہ ملا، تو آپ ﷺ نے اس میں سے پیا، پھر لڑکی کو دیا تو وہ شرما گئی، میں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ واپس نہ کرو، تو لڑکی نے پی لیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی ساتھیوں کو بھی دو۔“ تو انہوں نے کہا: ہمیں اس کی خواہش نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جھوٹ اور بھوک اکٹھے نہ کرو۔“ میں نے عرض کیا: اگر ہم میں سے کوئی کسی ایسی چیز کے بارے میں جس کی ہمیں خواہش ہو، یہ کہے کہ ہمیں اس کی خواہش نہیں، تو کیا یہ جھوٹ شمار ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جھوٹ جھوٹ ہی لکھا جاتا ہے، یہاں تک کہ چھوٹا سا جھوٹ بھی جھوٹ ہی لکھا جاتا ہے۔“