المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عتبة بن عبد الله التيمي مولى معمر، عن أسماء باب: عتبہ بن عبداللہ تیمی، معمر کے آزاد کردہ غلام، کی سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 20769
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهَا: «بِمَاذَا تَسْتَمْشِينَ؟» فَقَالَتْ: كُنْتُ أَسْتَمْشِي بِالشُّبْرُمِ فَقَالَ: «حَارٌّ حَارٌّ» فَقَالَتْ: ثُمَّ اسْتَمْشَيْتُ بِالسَّنَى فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كَانَ فِي شَيْءٍ شِفَاءٌ مِنَ الْمَوْتِ لَكَانَ السَّنَى»ترجمہ
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا: ”تم جلاب (پیٹ صاف کرنے) کے لیے کیا استعمال کرتی ہو؟“ تو انہوں نے عرض کیا: میں جلاب کے لیے شبرم استعمال کرتی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بہت گرم ہے، بہت گرم۔“ انہوں نے عرض کیا: پھر میں نے جلاب کے لیے سنا استعمال کی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر کسی چیز میں موت سے شفا ہوتی تو وہ سنا میں ہوتی۔“