المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أم جعفر بن محمد بن جعفر بن أبي طالب، عن جدتها أسماء باب: جعفر بن محمد بن جعفر بن ابی طالب کی والدہ کی اپنی دادی سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْفِطْرِيُّ، عَنْ عَوْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ جَعْفَرٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ بِالصَّهْبَاءِ، ثُمَّ أَرْسَلَ عَلِيًّا فِي حَاجَةٍ، فَرَجَعَ وَقَدْ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ، فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ فِي حِجْرِ عَلِيٍّ فَنَامَ، فَلَمْ يُحَرِّكُهُ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ إِنَّ عَبْدَكَ عَلِيًّا احْتَبَسَ بِنَفْسِهِ عَلَى نَبِيِّهِ فَرُدَّ عَلَيْهِ الشَّمْسَ» قَالَتْ: فَطَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ حَتَّى رُفِعَتْ عَلَى الْجِبَالِ وَعَلَى الْأَرْضِ، وَقَامَ عَلِيٌّ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ غَابَتْ وَذَلِكَ بِالصَّهْبَاءِام جعفر رحمہا اللہ اپنی دادی سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صہباء کے مقام پر ظہر کی نماز پڑھی، پھر علی رضی اللہ عنہ کو کسی ضرورت کے لیے بھیجا، تو وہ واپس آئے جبکہ نبی کریم ﷺ عصر کی نماز پڑھ چکے تھے، تو نبی کریم ﷺ نے اپنا سر علی رضی اللہ عنہ کی گود میں رکھا اور سو گئے، تو انہوں نے آپ ﷺ کو نہ ہلایا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! تیرے بندے علی نے اپنے نبی کی خاطر خود کو روکے رکھا، تو اس کے لیے سورج لوٹا دے۔“ وہ کہتی ہیں: تو ان کے لیے سورج دوبارہ طلوع ہو گیا یہاں تک کہ وہ پہاڑوں اور زمین کے اوپر بلند ہو گیا، اور علی رضی اللہ عنہ اٹھے، وضو کیا اور عصر کی نماز پڑھی، پھر وہ دوبارہ غروب ہو گیا، اور یہ مقام صہباء میں ہوا۔