المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
القاسم بن محمد بن أبي بكر، عن أسماء باب: قاسم بن محمد بن ابی بکر کی سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 20738
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ الْأُبُلِّيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: «يَا ابْنَةَ عُمَيْسٍ لَا غُسْلَ عَلَيْكُنَّ، وَلَا جُمُعَةً، وَلَا حِلَاقَ، وَلَا تَقْصِيرَ إِلَّا أَنْ تَأْخُذَ إِحْدَاكُنَّ لِنَفْسِهَا أَوْ مَنْ كَانَ مِنْهَا بِمَحْرَمٍ مِنْ أَطْرَافِ شَعْرِهَا مُقَدَّمَ رَأْسِهَا يَوْمَ النَّحْرِ إِذَا حَجَّتْ»ترجمہ
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے عمیس کی بیٹی! تم پر غسل، جمعہ، سر منڈوانا اور بال کتروانا لازم نہیں، سوائے اس کے کہ جب تم میں سے کوئی حج کرے تو قربانی کے دن اپنے یا اپنے محرم کے لیے اپنے سر کے اگلے حصے کے بالوں کے کناروں سے تھوڑا سا لے لے۔“