المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أبو يزيد المديني، عن أسماء باب: ابویزید مدینی کی سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا صَالِحُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ وَرْدَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ الْمَدِينِيِّ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، قَالَتْ: كُنْتُ فِي زِفَافِ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَرَبَ الْبَابَ فَقَامَتْ إِلَيْهِ أُمُّ أَيْمَنَ فَفَتَحَتْ لَهُ الْبَابَ، فَقَالَ: «يَا أُمَّ أَيْمَنَ، ادْعِي لِي أَخِي» فَقَالَتْ أَخُوكَ هُوَ - أَيَّ كَلِمَةٍ يَمَانِيَةٍ - وَتَنْكِحُهُ ابْنَتَكَ، قَالَ: «يَا أُمَّ أَيْمَنَ، ادْعِي لِي» ، فَسَمِعَ النِّسَاءُ صَوْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَحَشْحَشْنَ فَجَلَسْنَ فِي نَاحِيَةٍ، ثُمَّ جَاءَ عَلِيٌّ فَدَعَا لَهُ وَنَضَحَ عَلَيْهِ مِنَ الْمَاءِ، ثُمَّ قَالَ: «ادْعُو لِي فَاطِمَةَ» فَجَاءَتْ وَهِيَ عَرِقَةٌ - أَوْ حَرِقَةٌ - مِنَ الْحَيَاءِ، فَقَالَ لَهَا: «اسْكُتِي فَقَدْ أَنْكَحْتُكِ أَحَبَّ أَهْلِ بَيْتِي إِلَيَّ» وَدَعَا لَهَا وَدَعَا بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ عَلَيْهَا، ثُمَّ خَرَجَ فَرَأَى سَوَادًا، فَقَالَ: «مَنْ هَذَا؟» قَالَتْ: أَسْمَاءُ، قَالَ: «ابْنَةُ عُمَيْسٍ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «أَكُنْتِ فِي زِفَافِ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُكْرِمِينَهُ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، فَدَعَا لِيسیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”میں رسول اللہ ﷺ کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی میں موجود تھی، صبح ہوئی تو نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور دروازہ کھٹکھٹایا، تو ام ایمن رضی اللہ عنہا ان کے لیے کھڑی ہوئیں اور دروازہ کھولا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ام ایمن! میرے بھائی کو بلاؤ۔“ انہوں نے کہا: کیا وہ تمہارا بھائی ہے - یہ ایک یمنی محاورہ تھا - جبکہ تم نے اپنی بیٹی کا نکاح اس سے کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ام ایمن! میرے لیے بلاؤ۔“ عورتوں نے نبی کریم ﷺ کی آواز سنی تو وہ سمٹ کر ایک طرف بیٹھ گئیں، پھر علی رضی اللہ عنہ آئے تو آپ ﷺ نے ان کے لیے دعا فرمائی اور ان پر پانی کے چھینٹے دیے، پھر فرمایا: ”میرے لیے فاطمہ کو بلاؤ۔“ تو وہ آئیں جبکہ وہ شرم سے پسینے میں شرابور تھیں، آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”خاموش رہو، میں نے تمہارا نکاح اپنے گھر والوں میں سب سے زیادہ پیارے شخص سے کیا ہے۔“ اور ان کے لیے دعا فرمائی اور پانی منگوا کر ان پر چھینٹے دیے۔ پھر آپ ﷺ باہر نکلے تو ایک سایہ دیکھا، فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ کہا: اسماء۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عمیس کی بیٹی؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم رسول اللہ ﷺ کی بیٹی کی رخصتی میں اس کی تکریم کے لیے موجود تھیں؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ تو آپ ﷺ نے میرے لیے دعا فرمائی۔“