المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عمر بن الخطاب، عن أسماء باب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 20732
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ فَرُّوخٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُقْبَةَ الزُّرَقِيِّ، عَنْ زُرْعَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حَدَّثَهُ، عَنْ أَسْمَاءَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا شُبْرُمٍ تَدُقُّهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَصْنَعِينَ بِهَذَا؟» فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللهِ أَسْقِيهِ فُلَانًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ دَاءٌ» وَدَخَلَ عَلَيْهَا وَمَعَهَا سَنِّيٌّ فَقَالَ: " مَا تَصْنَعِينَ بِهَذَا؟ فَقَالَتْ: يَشْرَبُهُ فُلَانٌ، فَقَالَ: «لَوْ أَنَّ شَيْئًا يَنْبَغِي أَنْ يَدْفَعَ الْمَوْتَ لَدَفَعَ السَّنِّيُّ»ترجمہ
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے جبکہ ان کے پاس شبرم (ایک تیز جلاب آور بوٹی) تھی جسے وہ کوٹ رہی تھیں، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہ کیا کر رہی ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میں یہ فلاں کو پلاؤں گی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہ تو بیماری ہے۔“ پھر آپ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے تو ان کے پاس سنا (ایک دوا) تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کیا کر رہی ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: اسے فلاں پیئے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر کوئی چیز موت کو ٹالنے کے قابل ہوتی تو وہ سنا ہوتی۔“