المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
صفية بنت شيبة بن عثمان الحجبية، عن أسماء باب: صفیہ بنت شیبہ بن عثمان حجبیہ کی سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 20728
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَاءُ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي زَوَّجَتُ ابْنَتِي، وَإِنَّهَا مَرِضَتْ وتَمَرَّطَ رَأْسُهَا، وَإِنَّ زَوْجَهَا قَدِ اخْتَلَفَ إِلَيَّ أَفَأَصِلُ شَعَرَهَا؟ «فَسَبَّ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ»ترجمہ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے اپنی بیٹی کی شادی کی، وہ بیمار ہو گئی اور اس کے بال جھڑ گئے، اور اس کا شوہر بار بار میرے پاس آ رہا ہے، تو کیا میں اس کے بال جوڑ دوں؟ تو آپ ﷺ نے بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی کو برا بھلا کہا۔