المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
هشام بن عروة، عن فاطمة باب باب: ہشام بن عروہ کی فاطمہ سے روایات — باب
حدیث نمبر: 20713
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: قَدِمَتْ عَلِيَّ أُمِّي وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ وَمُدَّتِهِمُ الَّذِي عَاهَدُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ قَدِمَتْ عَلِيَّ أُمِّي وَهِيَ رَاغِبَةٌ أَفَأَصِلُهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ صِلِي أُمُّكِ»ترجمہ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میری والدہ اس زمانے میں میرے پاس آئیں جب وہ مشرکہ تھیں، اور یہ اس عہد اور مدت میں تھا جس میں قریش نے رسول اللہ ﷺ سے معاہدہ کر رکھا تھا، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری والدہ میرے پاس آئی ہیں اور وہ صلہ رحمی کی خواہش مند ہیں، تو کیا میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اپنی والدہ کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔“