المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
هشام بن عروة، عن فاطمة باب باب: ہشام بن عروہ کی فاطمہ سے روایات — باب
حدیث نمبر: 20694
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لِي زَوْجًا، وَإِنَّ لِي جَارَةً، فَهَلْ عَلِيَّ جُنَاحٌ أَنْ أَتَشَبَّعَ عِنْدَهَا بِمَا لَمْ يُعْطِنِي زَوْجِي؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ»ترجمہ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے کہا: یا رسول اللہ! میرا شوہر ہے اور میری ایک سوکن ہے، تو کیا مجھ پر کوئی گناہ ہے کہ میں اس کے سامنے اس چیز پر خود کو بھرا ہوا ظاہر کروں جو میرے شوہر نے مجھے نہیں دی؟ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”جو نہ دی گئی چیز پر خود کو بھرا ہوا ظاہر کرے وہ جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے جیسا ہے۔“