المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
هشام بن عروة، عن فاطمة باب باب: ہشام بن عروہ کی فاطمہ سے روایات — باب
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا سَعِيدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، وَفَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، أَنَّهُمَا قَالَا: خَرَجَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ حِينَ هَاجَرَتْ وَهِيَ حُبْلَى بِعَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، فَقَدِمَتْ قِبَاءَ فَنُفِسَتْ بِعَبْدِ اللهِ بِهَا، ثُمَّ خَرَجَتْ حِينَ نُفِسَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِتَحْنِكَهُ «فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا فَوَضَعَهُ فِي حِجْرِهِ، ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ» قَالَتْ عَائِشَةُ: فَمَكَثْنَا سَاعَةً نَلْتَمِسُهَا قَبْلَ أَنْ نَجِدَهَا «فَمَضَغَهَا، ثُمَّ وَضَعَهَا فِي فِيهِ» ، فَإِنَّ أَوَّلَ شَيْءٍ دَخَلَ بَطْنَهُ لَرِيقُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ أَسْمَاءُ: «ثُمَّ مَسَحَهُ وَصَلَّى عَلَيْهِ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللهِ، ثُمَّ جَاءَ بَعْدُ وَهُوَ ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ أَوْ ثَمَانِ سِنِينَ لِيُبَايِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ بِذَلِكَ الزُّبَيْرُ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُ مُقْبِلًا إِلَيْهِ، ثُمَّ بَايَعَهُ» بَابٌسیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا جب ہجرت کر کے آئیں تو عبداللہ بن زبیر کے حمل سے تھیں، وہ قباء پہنچیں تو وہیں عبداللہ کی پیدائش ہوئی، پھر جیسے ہی وہ نفاس سے فارغ ہوئیں، رسول اللہ ﷺ کے پاس گئیں تاکہ آپ ﷺ اس کی گھٹی (تحنیک) کریں، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے ان سے لے کر اپنی گود میں رکھا، پھر کھجور منگوائی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہم کچھ دیر اسے ڈھونڈتے رہے قبل اس کے کہ وہ مل جائے، ”تو آپ ﷺ نے اسے چبایا، پھر اسے بچے کے منہ میں ڈال دیا“، چنانچہ سب سے پہلی چیز جو اس کے پیٹ میں گئی وہ رسول اللہ ﷺ کا لعاب تھا۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”پھر آپ ﷺ نے اسے مَلا اور اس کے لیے دعا فرمائی اور اس کا نام عبداللہ رکھا، پھر جب وہ سات یا آٹھ سال کا ہوا تو زبیر رضی اللہ عنہ کے حکم پر رسول اللہ ﷺ سے بیعت کرنے آیا، تو رسول اللہ ﷺ نے جب اسے اپنی طرف آتے دیکھا تو مسکرا دیے، پھر اس سے بیعت لی۔“