المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عبد الله مولى أسماء، عن أسماء باب: عبداللہ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام، کی ان سے روایات
حدیث نمبر: 20635
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدِ اللهِ، أَوْ عَبْدِ اللهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهَا أَخْرَجَتْ إِلَيْهِ جُبَّةً طَيَالِسَةً مِنْ دِيبَاجٍ فَقَالَتْ: «هَذِهِ جُبَّةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قُبِضَ كَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ، فَلَمَّا قُبِضَتْ عَائِشَةُ أَخَذْتُهَا فَهِيَ عِنْدِي تَغْسِلُهَا لِلْمَرِيضِ يُسْتَشْفَى بِهَا»ترجمہ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے اپنے غلام کے سامنے دیباج (ریشم) والا ایک طیالسی جبہ نکالا اور فرمایا: ”یہ رسول اللہ ﷺ کا جبہ ہے، جب آپ ﷺ کی وفات ہوئی تو یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا، پھر جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وفات ہوئی تو میں نے اسے لے لیا، چنانچہ یہ میرے پاس ہے، میں اسے دھو کر بیمار کے لیے شفا حاصل کرنے کو دیتی ہوں۔“