المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
مجاهد بن جبر، عن أسماء بنت أبي بكر باب: مجاہد بن جبر کی سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 20615
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: أَفْرِدُوا الْحَجَّ، وَلَا تَسْمَعُوا قَوْلَ أَعْمَاكُمْ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ الَّذِي أَعْمَى اللهُ قَلْبَهُ أَنْتَ أَرْسِلْ إِلَى أُمِّكَ فَسَلْهَا فَأَرْسَلُوا إِلَى أَسْمَاءَ، فَقَالَتْ: صَدَقَ ابْنُ عَبَّاسٍ «قَدِمْنَا حُجَّاجًا فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحِلَّ فَأَحْلَلْنَا الْحِلِّ كُلَّهُ حَتَّى سَطَعَتِ الْمَجَامِرُ بَيْنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ»ترجمہ
…اور اپنے اندھوں کی بات مت سنو، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: جس کا دل اللہ نے اندھا کیا ہے وہ تم ہو، اپنی والدہ کی طرف پیغام بھیجو اور ان سے پوچھو۔ چنانچہ انہوں نے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کی طرف پیغام بھیجا، تو انہوں نے فرمایا: ابن عباس نے سچ کہا، ”ہم حج کا احرام باندھ کر آئے تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم احرام کھول دیں، تو ہم نے مکمل طور پر احرام کھول دیا، یہاں تک کہ مردوں اور عورتوں کے درمیان خوشبو کی انگیٹھیاں دہکنے لگیں۔“