حدیث نمبر: 20614
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: أَفْرِدُوا الْحَجَّ، وَدَعُوا قَوْلَ أَعْمَاكُمْ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ الَّذِي أَعْمَى اللهُ قَلْبَهُ أَنْتَ، أَلَا تَسْأَلُ أُمَّكَ عَنْ هَذَا؟ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَقَالَتْ: صَدَقَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ، «خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَّاجًا فَجَعَلْنَاهَا عُمْرَةً فَحَلَلْنَا الْإِحْلَالَ كُلَّهُ حَتَّى سَطَعَتِ الْمَجَامِرُ بَيْنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ»
ترجمہ

…اور اپنے اندھوں کی بات مت مانو، تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: جس کا دل اللہ نے اندھا کر دیا ہے وہ تم ہو، کیا تم اپنی والدہ سے اس بارے میں نہیں پوچھتے؟ تو انہوں نے ان کی طرف پیغام بھیجا، تو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے فرمایا: عبداللہ بن عباس نے سچ کہا، ”ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کا احرام باندھ کر نکلے، پھر ہم نے اسے عمرہ بنا لیا، تو ہم نے مکمل طور پر احرام کھول دیا، یہاں تک کہ مردوں اور عورتوں کے درمیان خوشبو کی انگیٹھیاں دہکنے لگیں (یعنی خوشبو لگائی جانے لگی)۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20614
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 92، حدیث 243