المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أبو الأسود محمد بن عبد الرحمن بن نوفل يتيم عروة، عن عروة بن الزبير، عن أسماء بنت أبي بكر باب: ابواسود، محمد بن عبدالرحمن بن نوفل، عروہ کے یتیم پروردہ، کی عروہ بن زبیر کے واسطے سے سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 20602
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ زُغْبَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ " يُصَلِّي نَحْوَ الرُّكْنِ بَعْدَ أَنْ أُمِرَ يَصْدَعُ بِمَا أُمِرَ وَهُوَ يَقْرَأُ: {فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ} [الرحمن: ١٣] " وَالْمُشْرِكُونَ يَسْمَعُونَترجمہ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا کہ آپ ﷺ حکم ملنے کے بعد رکن (کعبہ) کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ رہے تھے، آپ ﷺ اس حکم کا کھلے عام اعلان فرما رہے تھے اور یہ پڑھ رہے تھے: ”تو تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟“ [سورۃ الرحمن: 13]، اور مشرکین سن رہے تھے۔