المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أبو الأسود محمد بن عبد الرحمن بن نوفل يتيم عروة، عن عروة بن الزبير، عن أسماء بنت أبي بكر باب: ابواسود، محمد بن عبدالرحمن بن نوفل، عروہ کے یتیم پروردہ، کی عروہ بن زبیر کے واسطے سے سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَا: ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَقْعُدُ فِي قَبْرِهِ حِينَ يَنْكَفِئُ عَنْهُ مَنْ يَشْهَدُهُ، فَيُقَالُ لَهُ: رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ مُحَمَّدٌ مَنْ هُوَ؟ فَإِنْ كَانَ مُؤْمِنًا قَالَ: هُوَ عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ، فَيُقَالُ لَهُ: نَمْ نَامَتْ عَيْنَاكَ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ مُؤْمِنٍ قَالَ: وَاللهِ مَا أَدْرِي سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُهُ وَيَخُوضُونَ فَخُضْتُ، فَيُقَالُ لَهُ: نَمْ لَا نَامَتْ عَيْنَاكَ "سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن اپنی قبر میں اس وقت بیٹھتا ہے جب اس کی تدفین میں شریک لوگ اس سے پلٹ جاتے ہیں، تو اس سے کہا جاتا ہے: وہ آدمی جسے محمد کہا جاتا ہے، وہ کون ہے؟ اگر وہ مومن ہو تو کہتا ہے: وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، تو اس سے کہا جاتا ہے: سو جا، تیری آنکھیں سو گئیں (یعنی تجھے چین نصیب ہو)۔ اور اگر وہ مومن نہ ہو تو کہتا ہے: اللہ کی قسم! مجھے کچھ معلوم نہیں، میں نے لوگوں کو کچھ کہتے سنا تو میں نے بھی وہی کہہ دیا اور وہ جو باتیں بناتے تھے میں نے بھی ویسی ہی باتیں بنا لیں، تو اس سے کہا جاتا ہے: سو جا، تیری آنکھیں کبھی چین سے نہ سوئیں۔“