حدیث نمبر: 20587
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: " كَانَ زَيْدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَقِفُ عِنْدَ الْكَعْبَةِ، ويُلْزِقُ ظَهْرَهُ إِلَى صَفْحَتِهَا، فَيَقُولُ: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، مَا أَجِدُ عَلَى الْأَرْضِ عَلَى دِينِ إِبْرَاهِيمَ غَيْرِي، وَكَانَ تَرَكَ عِبَادَةَ الْأَوْثَانِ، وَأَكْلِ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ، وَكَانَ يُفَدِّي الْمَوْؤُودَةَ أَنْ تُقْتَلَ، وَقَالَ عَمْرُو بْنُ زَيْدِ بْنِ نُفَيْلٍ:
[البحر الوافر]
عَدَلَتِ الْجِنُّ وَالْجِنَانُ عَنِّي ... كَذَلِكَ يَفْعَلُ الْجَلْدُ الصَّبُورُ "
ترجمہ

سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: زید بن عمرو بن نفیل زمانہ جاہلیت میں کعبہ کے پاس کھڑے ہو کر اس کی دیوار سے پیٹھ لگا لیتے اور کہتے: اے قریش کی جماعت! زمین پر میرے سوا کوئی دینِ ابراہیم پر نہیں ہے، اور انہوں نے بتوں کی عبادت اور بتوں کے نام پر ذبح کیے گئے جانور کھانا چھوڑ دیا تھا، اور زندہ درگور کی جانے والی بچیوں کو فدیہ دے کر قتل ہونے سے بچا لیا کرتے تھے۔ اور عمرو بن زید بن نفیل نے کہا: ”جنوں اور جنت دونوں مجھ سے پھر گئے، سخت جان صابر ایسا ہی کرتا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20587
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 82، حدیث 216