حدیث نمبر: 20548
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ بِعَيْنَيْ صَفِيَّةَ خُضْرَةٌ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا هَذِهِ الْخُضْرَةُ بِعَيْنَيْكِ؟» فَقَالَتْ: قُلْتُ لِزَوْجِي: إِنِّي رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمِ قَمَرًا وَقَعَ فِي حِجْرِي فَلَطَمَنِي، وَقَالَ: أَتُرِيدِينَ مَلِكَ يَثْرِبَ؟ قَالَتْ: وَمَا كَانَ أَبْغَضُ إِلَيَّ مِنْ رَسُولِ اللهِ، قَتَلَ أَبِي وَزَوْجِي، فَمَا زَالَ يَعْتَذِرُ إِلَيَّ فَقَالَ: «يَا صَفِيَّةُ إِنَّ أَبَاكِ أَلَّبَ عَلَى الْعَرَبَ، وَفَعَلَ وَفَعَلَ» حَتَّى ذَهَبَ ذَاكَ مِنْ نَفْسِي
ترجمہ

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی آنکھوں کے گرد نیلاہٹ کا نشان تھا، تو نبی کریم ﷺ نے ان سے پوچھا: ”تمہاری آنکھوں کے گرد یہ نیلاہٹ کیسی ہے؟“ انہوں نے بتایا: میں نے اپنے پہلے شوہر سے کہا تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ ایک چاند میری گود میں آ گرا ہے، تو اس نے مجھے تھپڑ مارا اور کہا: کیا تم یثرب کے بادشاہ کو چاہتی ہو؟ اس وقت مجھے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ ناپسندیدہ کوئی نہیں تھا، انہوں نے میرے باپ اور شوہر کو قتل کیا تھا، تو آپ ﷺ مجھ سے مسلسل معذرت کرتے رہے اور فرماتے رہے: ”صفیہ! تمہارے باپ نے عربوں کو میرے خلاف اکسایا اور یہ یہ کیا۔“ یہاں تک کہ یہ بات میرے دل سے نکل گئی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20548
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 67، حدیث 177