حدیث نمبر: 20520
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ حَدِيثِ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ حَدِيثِ الْأَبْحِ السُّلَمِيِّ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ قَالَتْ: كُنْتُ يَوْمًا عِنْدَ زَيْنَبَ امْرَأَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَصْنَعُ لَهَا بِمَغْرَةٍ، فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ «إِذْ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَى الْمَغْرَةَ رَجَعَ، فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ زَيْنَبُ عَلِمَتْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرِهَ مَا فَعَلَتْ، فَأَخَذَتْ مَاءً فَغَسَلَتْ ثِيَابَهَا وَوَارَتْ كُلَّ حُمْرَةٍ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَعَ فَاطَّلَعَ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا فَدَخَلَ»
ترجمہ

بنو اسد کی ایک عورت بیان کرتی ہے: ایک دن میں سیدہ زینب رضی اللہ عنہا، رسول اللہ ﷺ کی زوجہ، کے پاس تھی اور ہم ان کے لیے گیرو (سرخ رنگ) سے کپڑا تیار کر رہی تھیں، اسی دوران رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، جب آپ ﷺ نے گیروے کا رنگ دیکھا تو واپس چلے گئے، جب زینب رضی اللہ عنہا نے یہ دیکھا تو سمجھ گئیں کہ رسول اللہ ﷺ کو یہ کام ناپسند آیا، تو انہوں نے پانی لے کر اپنے کپڑے دھوئے اور ہر سرخی چھپا دی، پھر رسول اللہ ﷺ واپس آئے اور جھانک کر دیکھا تو کوئی چیز نظر نہ آئی تو اندر تشریف لے آئے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20520
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 57، حدیث 149