حدیث نمبر: 20508
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الزُّهْرِيُّ، وَلَا نَحْتاجُ فِيهِ إِلَى أَحَدٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ أُمِّ حَبِيبَةَ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ حَبِيبَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَتْ: اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَوْمٍ وَهُوَ مُحْمَرٌ وَجْهُهُ، وَهُوَ يَقُولُ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَيْلٌ لِلْعَرَبِ، مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ، فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ» - وَعَقَدَ سُفْيَانُ عَشَرَةً - قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ؟ قَالَ: «نَعَمْ إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ» قَالَ سُفْيَانُ: " أَحْفَظُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَرْبَعَ نِسْوَةٍ مِنَ الزُّهْرِيِّ، وَقَدْ رَأَيْنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثِنْتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِهِ أُمَّ حَبِيبَةَ وَزَيْنَبَ، وَثِنْتَيْنِ مِنْ رَبِيبَتَيْهِ: زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، وَحَبِيبَةَ بِنْتِ أُمِّ حَبِيبَةَ، أَبُوهَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ جَحْشٍ مَاتَ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ "
ترجمہ

سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نیند سے بیدار ہوئے، آپ ﷺ کا چہرہ سرخ تھا، اور آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، عربوں کے لیے اس شر سے ہلاکت ہے جو قریب آ گیا ہے، آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں سے اتنا کھول دیا گیا ہے“ (اور سفیان نے دس کا عدد باندھا)، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم اس حال میں ہلاک ہو جائیں گے کہ ہم میں نیک لوگ بھی ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، جب گندگی زیادہ ہو جائے گی۔“
سفیان کہتے ہیں: مجھے یاد ہے کہ اس حدیث میں زہری سے چار عورتوں کا ذکر ہے، جن میں سے دو نے خود نبی کریم ﷺ کو دیکھا: آپ ﷺ کی دو ازواج ام حبیبہ اور زینب، اور دو آپ ﷺ کی ربیبائیں: زینب بنت ام سلمہ اور حبیبہ بنت ام حبیبہ، جن کے والد عبیداللہ بن جحش تھے جو سرزمینِ حبشہ میں فوت ہوئے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20508
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 52، حدیث 137