حدیث نمبر: 20501
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَلِيٍّ الْجَارُودِيُّ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِالْحِجَابِ لَقَدْ كَانَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يَسْأَلُنِي عَنْهُ، قَالَ أَنَسٌ: «أَصْبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرُوسًا بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، وَكَانَ تَزَوَّجَهَا بِالْمَدِينَةِ، فَدَعَى النَّاسَ لِلطَّعَامِ بَعْدَ ارْتِفَاعِ النَّهَارِ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَلَسَ مَعَهُ رِجَالٌ بَعْدَ مَا قَامَ الْقَوْمُ، حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَشَى وَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى بَلَغَ بَابَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ، ثُمَّ ظَنَّ أَنَّهُمْ قَدْ خَرَجُوا فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ، فَإِذَا هُمْ قَدْ قَامُوا، فَضَرَبَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ بِالسِّتْرِ وَنَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ»
ترجمہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں حجاب کے حکم کے بارے میں سب لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں، ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مجھ سے اس کے بارے میں پوچھا کرتے تھے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کی صبح دلہا بن کر گزاری، آپ ﷺ نے ان سے مدینہ میں نکاح کیا تھا، تو آپ ﷺ نے دن چڑھے لوگوں کو کھانے کی دعوت دی، رسول اللہ ﷺ بیٹھے رہے اور لوگوں کے اٹھ جانے کے بعد کچھ لوگ بھی آپ ﷺ کے پاس بیٹھے رہے، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ اٹھے اور چلے، میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ چلا یہاں تک کہ آپ ﷺ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے دروازے تک پہنچے، پھر آپ ﷺ نے گمان کیا کہ وہ لوگ نکل چکے ہیں تو واپس آئے اور میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ واپس آیا، تو دیکھا کہ وہ ابھی اٹھے ہی تھے، تو آپ ﷺ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا اور آیتِ حجاب نازل ہوئی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20501
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 49، حدیث 130