❮
❯
حدیث نمبر: 20436
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، قَالَ: سَأَلْتُهُ أَوْتِرُ بِثَلَاثٍ، ثُمَّ أَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ مَخَافَةَ أَنْ تَفُوتَنِي، فَقَالَ: «لَا يَصْلُحُ إِلَّا بِخَمْسٍ أَوْ سَبْعٍ» فَسَأَلْتُهُ عَمَّنْ؟ فَقَالَ: عَنِ الثِّقَةِ، عَنْ مَيْمُونَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ

حکم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے مقسم رحمہ اللہ سے پوچھا: میں تین رکعتوں سے وتر پڑھتا ہوں، پھر نماز کے لیے نکل جاتا ہوں اس ڈر سے کہ کہیں نماز فوت نہ ہو جائے، تو انہوں نے فرمایا: ”یہ صرف پانچ یا سات رکعتوں سے ہی درست ہے۔“ تو میں نے پوچھا: یہ کس سے مروی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ایک ثقہ راوی سے، وہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے، وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے، وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتی ہیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20436
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 26، حدیث 65