المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
العالية بنت سبيع، عن ميمونة باب: عالیہ بنت سبیع کی سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُسْتَمْلِي، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَبِيبٍ الْأَعْوَرِ، مَوْلَى عُرْوَةَ، أَنَّ نُدْبَةَ، مَوْلَاةِ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْهَا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ ابْنُ أُخْتِهَا، قَالَتْ: فَجِئْتُ فَوَجَدْتُهُ قَدْ تَحَوَّلَ فِرَاشُهُ عَنْ فِرَاشِ امْرَأَتِهِ بِنْتِ مِشْرَحٍ، فَقُلْتُ: أَيْنَ هُوَ؟ أَمُغَاضِبٌ هُوَ امْرَأَتَهُ؟ فَقَالُوا: لَا، وَلَكِنَّهَا إِذَا حَاضَتِ اعْتَزَلَهَا، فَرَجَعْتُ إِلَى مَيْمُونَةَ فَأَخْبَرْتُهَا كَيْفَ وَجَدَتْهُ، فَقَالَتْ: ادْعِيهِ لِي فَدَعَوْتُهُ، فَقَالَتْ لَهُ: أَتَرْغَبُ عَمَّا كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَاللهِ أَنْ «كَانَ يُبَاشِرُ الْمَرْأَةَ مِنْ نِسَائِهِ إِذَا كَانَ عَلَيْهَا ثِيَابٌ يَبْلُغُ أَنْصَافَ الْفَخِذَيْنِ أَوِ الرُّكْبَتَيْنِ»سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی آزاد کردہ لونڈی ندبہ بیان کرتی ہیں کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے انہیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا، جو ان کے بھانجے تھے۔ وہ کہتی ہیں: میں آئی تو دیکھا کہ ان کا بستر ان کی بیوی بنت مشرح کے بستر سے الگ کر دیا گیا ہے، تو میں نے پوچھا: وہ کہاں ہیں؟ کیا وہ اپنی بیوی سے ناراض ہیں؟ تو گھر والوں نے کہا: نہیں، بلکہ جب انہیں حیض آتا ہے تو وہ ان سے الگ ہو جاتے ہیں۔ تو میں میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس واپس آئی اور انہیں بتایا کہ میں نے اسے کیسا پایا، تو انہوں نے فرمایا: اسے میرے پاس بلاؤ، تو میں نے اسے بلا لیا، تو انہوں نے اس سے کہا: کیا تم اس چیز کو ناپسند کرتے ہو جو رسول اللہ ﷺ کیا کرتے تھے؟ اللہ کی قسم! آپ ﷺ اپنی کسی بیوی کو چھوتے تھے جبکہ اس پر ایسا کپڑا ہوتا جو رانوں کے نصف یا گھٹنوں تک پہنچتا۔