المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
العالية بنت سبيع، عن ميمونة باب: عالیہ بنت سبیع کی سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 20432
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هِنْدٍ، عَنِ ابْنِ حُذَيْفَةَ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ مَيْمُونَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تَدَّانُ دَيْنًا، فَقَالَ لَهَا بَعْضُ أَهْلِهَا: لَا تَفْعَلِي وَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: بَلَى، إِنِّي سَمِعْتُ نَبِيِّي وَخَلِيلِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ تَدَايَنَ دَيْنًا يُرِيدُ أَدَاءَهُ إِلَّا أَدَّاهُ اللهُ عَنْهُ فِي الدُّنْيَا»ترجمہ
ابن حذیفہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا قرض لیا کرتی تھیں، تو ان کے کچھ گھر والوں نے ان سے کہا: ایسا مت کرو، اور اس پر اعتراض کیا، تو انہوں نے فرمایا: کیوں نہیں! میں نے اپنے نبی اور اپنے خلیل ﷺ کو فرماتے سنا: ”جو مسلمان بھی قرض لے اور اسے ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، اللہ اسے دنیا ہی میں اس کی طرف سے ادا کر دیتا ہے۔“