حدیث نمبر: 20419
حَدَّثَنَا عُبَيْدٌ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ مَيْمُونَةَ، قَالَتْ: أُهْدِيَ لَنَا ضَبٌّ فَصَنَعْتُهُ، فَدَخَلَ رَجُلَانِ مِنْ قَوْمِي مِنْ قُرَيْشٍ فَأَتْحَفْتُهُمَا بِهِ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمَا يَأْكُلَانِ فَوَضَعَ يَدَهُ، ثُمَّ رَفَعَهَا فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» قُلْتُ: ضَبٌّ أُهْدِيَ لَنَا فَصَنَعْتُهُ فَطَرَحَهُ، فَذَهَبَا لِيَطْرَحا مَا فِي أَيْدِيهِمَا، فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلَا إِنَّكُمْ أَهْلَ نَجْدٍ تَأْكُلُونَهَا، وَإِنَّا أَهْلَ تِهَامَةَ نَعَافُهَا»
ترجمہ

سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہمیں ایک ضب تحفے میں دیا گیا تو میں نے اسے پکایا، پھر میری قوم قریش کے دو آدمی آئے تو میں نے انہیں بطورِ تحفہ پیش کیا، تو نبی کریم ﷺ تشریف لائے جبکہ وہ دونوں کھا رہے تھے، تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ بڑھایا، پھر اسے اٹھا لیا اور فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: ایک ضب ہے جو ہمیں تحفے میں دیا گیا تھا، تو میں نے اسے پکایا۔ تو آپ ﷺ نے اسے رکھ دیا، تو وہ دونوں اپنے ہاتھوں میں جو کچھ تھا اسے رکھنے لگے، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تم دونوں کھاؤ، تم نجد والے اسے کھاتے ہو، اور ہم تہامہ والے اسے ناپسند کرتے ہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20419
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 21، حدیث 48