المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
العالية بنت سبيع، عن ميمونة باب: عالیہ بنت سبیع کی سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُذُوعِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَا: ثنا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ، ثنا الْمُبَارَكُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: ثنا الْقَاسِمُ بْنُ الْمُطَيَّبِ، أَنَّ أَبَا الْمَلِيحِ الْهُذَلِيَّ، خَرَجَ فِي جِنَازَةٍ فَلَمَّا وُضِعَ عَلَى السَّرِيرِ أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ: سَوُّوا صُفُوفَكُمْ وَأَحْسِنُوا شَفَاعَتَكُمْ، ثُمَّ قَالَ أَبُو الْمَلِيحِ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلِيطٍ - وَكَانَ أَخُو مَيْمُونَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ - عَنْ مَيْمُونَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ صَلَّى عَلَيْهِ أُمَّةٌ شُفِّعُوا فِي أَخِيهِمْ» وَالْأُمَّةُ: أَرْبَعُونَ إِلَى مِائَةٍ، وَالْعُصْبَةُ: عَشَرَةٌ إِلَى أَرْبَعِينَ، وَالنَّفَرُ: ثَلَاثَةٌ إِلَى عَشَرَةٍ "قاسم بن مطیب بیان کرتے ہیں کہ ابو الملیح ہذلی رحمہ اللہ ایک جنازے میں نکلے، جب میت کو چارپائی پر رکھا گیا تو وہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: اپنی صفیں سیدھی کر لو اور اپنی سفارش اچھی کرو۔ پھر ابو الملیح نے کہا: مجھے عبداللہ بن سلیط نے بیان کیا - جو ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے بھائی تھے - انہوں نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے، نبی کریم ﷺ سے روایت کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کی نمازِ جنازہ ایک جماعت پڑھے، ان کی شفاعت ان کے بھائی کے حق میں قبول کی جاتی ہے۔“
اور اُمّت سے مراد چالیس سے سو تک، عُصبہ سے مراد دس سے چالیس تک، اور نَفَر سے مراد تین سے دس تک لوگ ہیں۔