حدیث نمبر: 20403
حَدَّثَنَا الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، قَالَتْ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَاتِرًا، فَقُلْتُ: مَا لِي أَرَاكَ فَاتِرًا، فَقَالَ: " إِنَّ جِبْرِيلَ وَعَدَنِي وَمَا أَخْلَفَنِي، فَظَلَّ يَوْمَهُ كَذَلِكَ وَلَيْلَتَهُ، وَفِي الْبَيْتِ كَلْبٌ تَحْتَ نَضَدٍ لَنَا فَأَخْرَجَ وَأَخَذَ مَاءً بِيَدِهِ فَمَسَحَ بِهِ مَكَانَهُ، ثُمَّ جَاءَ جِبْرِيلُ فَقَالَ: إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ " وَكَانَ يُكَلَّمُ فِي كَلْبِ الْحَائِطِ الصَّغِيرِ فَمَا يَأْذَنُ فِيهِ
ترجمہ

سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ ایک دن سست حالت میں نکلے، تو میں نے عرض کیا: کیا بات ہے، میں آپ کو سست دیکھ رہی ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جبریل نے مجھ سے وعدہ کیا تھا اور وعدہ خلافی نہیں کی۔“ تو آپ ﷺ اس دن اور اس رات اسی حال میں رہے، اور گھر میں ہمارے کسی سامان کے نیچے ایک کتا تھا، تو اسے نکالا گیا اور آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ میں پانی لے کر اس جگہ کو صاف کیا، پھر جبریل تشریف لائے اور فرمایا: ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر یا کتا ہو۔ اور آپ ﷺ سے چھوٹے باغ کے کتے کے بارے میں کہا جاتا تو آپ ﷺ اس کی اجازت نہ دیتے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20403
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 17، حدیث 32