المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
جري بن سمرة، عن ميمونة باب: جری بن سمرہ کی سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ جُرَيِّ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: لَمَّا كَانَ بَيْنَ أَهْلِ الْبَصْرَةِ الَّذِي كَانَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، انْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ، فَأَتَيْتُ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَهِيَ مِنْ بَنِي هِلَالٍ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهَا، فَقَالَتُ: «مِمَّنِ الرَّجُلُ؟» قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ، قَالَتْ: «مِنْ أَيِّ أَهْلِ الْعِرَاقِ؟» قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ، قَالَتْ: «مِنْ أَيِّ أَهْلِ الْكُوفَةِ؟» قُلْتُ: مِنْ بَنِي عَامِرٍ، فَقَالَتْ: «مَرْحًا قُرْبًا عَلَى قُرْبِ، وَرُحْبًا عَلَى رُحْبٍ فَمَجِيءُ، مَا جَاءَ بِكَ؟» قُلْتُ: كَانَ بَيْنَ عَلِيٍّ، وَطَلْحَةَ، وَالزُّبَيْرِ الَّذِي كَانَ فَأَقْبَلْتُ فَبَايَعْتُ عَلِيًّا، قَالَتْ: «فَالْحَقْ بِهِ فَوَاللهِ مَا ضَلَّ وَلَا ضُلَّ بِهِ» حَتَّى قَالَتْهَا ثَلَاثًاجُرَیّ بن سمرہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: جب بصرہ والوں اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے درمیان جو کچھ ہوا وہ ہو گیا تو میں چل پڑا یہاں تک کہ مدینہ پہنچا، تو میں سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، وہ بنو ہلال سے تھیں، تو میں نے انہیں سلام کیا، تو انہوں نے پوچھا: ”یہ شخص کہاں کا ہے؟“ میں نے کہا: عراق کا۔ انہوں نے پوچھا: ”عراق کے کن لوگوں میں سے؟“ میں نے کہا: کوفہ والوں میں سے۔ انہوں نے پوچھا: ”کوفہ والوں میں سے کن میں سے؟“ میں نے کہا: بنو عامر میں سے۔ تو انہوں نے فرمایا: ”خوش آمدید! قربت پر قربت، اور کشادگی پر کشادگی، بھلا کیا بات لے کر آئے ہو؟“ میں نے کہا: علی، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم کے درمیان جو کچھ ہوا اس کے بعد میں آگے بڑھا اور علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کی۔ انہوں نے فرمایا: ”تو ان کے ساتھ ہی رہو، اللہ کی قسم! نہ وہ گمراہ ہوئے اور نہ انہیں گمراہ کیا گیا۔“ یہاں تک کہ انہوں نے یہ بات تین بار دہرائی۔