المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
ما روى ابن عباس، عن خالته ميمونة باب: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جو اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ثنا الزُّهْرِيُّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، قَالَتْ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَاةٍ لِمَوْلَاةٍ لَنَا قَدْ أُعْطِيَتْهَا مِنَ الصَّدَقَةِ مَيْتَةٍ فَقَالَ: «مَا عَلَى أَهْلِ هَذِهِ لَوْ أَخَذُوا إِهَابَهَا فَدَبَغُوهُ فَانْتَفَعُوا بِهِ؟» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهَا مَيْتَةٌ، فَقَالَ: «إِنَّمَا حَرُمَ أَكْلُهَا» . فَقِيلَ لِسُفْيَانَ إِنَّ مَعْمَرًا لَا يَقُولُ فِيهِ «فَدَبَغُوهُ» وَيَقُولُ كَانَ الزُّهْرِيُّ يُنْكِرُ الدِّبَاغَ فَقَالَ سُفْيَانُ: لَكِنِّي حَفِظْتُهُ وَإِنَّمَا أَرَدْنَا مِنْهُ هَذِهِ الْكَلِمَةَ الَّتِي نَقَلَهَا غَيْرُهُ «إِنَّمَا حَرُمَ أَكْلُهَا» ، وَكَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ مَيْمُونَةَ، فَإِذَا وَقَفَ عَلَيْهِ، قَالَ فِيهِ: مَيْمُونَةُسیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ہماری ایک لونڈی کی ایک مری ہوئی بکری کے پاس سے گزرے جو اسے صدقے میں دی گئی تھی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس گھر والوں پر کیا حرج ہے اگر وہ اس کی کھال لے کر اسے رنگ لیں اور اس سے فائدہ اٹھائیں؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو مردار ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا کھانا ہی حرام ہے۔“
سفیان سے کہا گیا کہ معمر اس روایت میں ”فدبغوہ“ نہیں کہتے، اور وہ کہتے ہیں کہ زہری دباغت کی بات کا انکار کرتے تھے۔ سفیان نے فرمایا: لیکن میں نے یہ لفظ یاد رکھا ہے، اور ہم نے تو اس جملے کی طرف اشارہ کیا ہے جسے دوسروں نے بھی نقل کیا ہے: ”اس کا کھانا ہی حرام ہے۔“ اور سفیان کبھی اس میں میمونہ کا نام نہ لیتے، اور جب اس سند پر رک کر غور کرتے تو اس میں میمونہ کا نام لیتے۔