المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
نساء لم يسمين، عن أم سلمة باب: کچھ نامعلوم خواتین کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَوْنٍ النِّيلِيُّ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي أُمِّهِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: إِنَّ عِنْدِي لَحَدِيثًا لَوْ أَرَدْتُ أَنْ آكُلَ بِهِ الدُّنْيَا لَأَكَلْتُهَا، وَلَكِنْ لَا يَسْأَلُنِي اللهُ عَنْ حَدِيثٍ أَرْفَعُهُ إِلَى السُّلْطَانِ، قَالَ أَبِي: فَقُلْتُ: مَا هُوَ؟ فَقَالَ: لَمَّا خَرَجَ زَيْدٌ أَتَيْتُ خَالَتِي الْغَدَ فَقُلْتُ لَهَا: يَا أُمَّهُ قَدْ خَرَجَ زَيْدٌ، فَقَالَتْ: الْمِسْكِينُ يُقْتُلُ كَمَا قُتِلَ آبَاؤُهُ، فَقُلْتُ لَهَا: إِنَّهُ خَرَجَ مَعَهُ ذَوُو الْحِجَى، فَقَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَذَاكَرُوا الْخِلَافَةَ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَذَاكَرُوا الْخِلَافَةَ بَعْدَهُ فَقَالُوا: وَلَدُ فَاطِمَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَنْ يَصِلُوا إِلَيْهَا أَبَدًا وَلَكِنَّهَا فِي وَلَدِ عَمِّي صِنْوِ أَبِي حَتَّى يُسْلِمُوهَا إِلَى الدَّجَّالِ»حارث بن معاویہ اپنے نانا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ کہا کرتے تھے: میرے پاس ایک ایسی حدیث ہے کہ اگر میں اس کے ذریعے دنیا کمانا چاہتا تو کما لیتا، لیکن اللہ مجھ سے کسی ایسی حدیث کے بارے میں سوال نہ کرے جسے میں بادشاہ تک پہنچاؤں۔ میرے والد کہتے ہیں: میں نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جب زید نے خروج کیا تو اگلے دن میں اپنی خالہ کے پاس گیا اور ان سے کہا: اماں! زید نے خروج کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا: بے چارہ! اسی طرح قتل کر دیا جائے گا جیسے اس کے آباء قتل کیے گئے۔ میں نے ان سے کہا: اس کے ساتھ عقل مند لوگ نکلے ہیں۔ انہوں نے کہا: میں نبی کریم ﷺ کی زوجہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھی کہ لوگوں نے خلافت کا ذکر کیا، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نبی کریم ﷺ کے پاس تھی کہ لوگوں نے آپ ﷺ کے بعد خلافت کا ذکر کیا اور کہا: فاطمہ کی اولاد خلیفہ ہو گی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اس تک کبھی نہیں پہنچیں گے، بلکہ یہ میرے چچا کی اولاد میں رہے گی، جو میرے والد کے ہم زاد بھائی تھے، یہاں تک کہ وہ اسے دجال کے حوالے کر دیں گے۔“