المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
ماوية، عن أم سلمة باب: ماویہ کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 20312
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ مَوْلَاةٍ لِأَبِيهَا يُقَالُ لَهَا مَاوِيَّةُ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهَا، أَنَّهَا سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ: إِنَّ عَيْنِي تَعَوَّدَتِ الْكُحْلَ الَّذِي فِيهِ الطِّيبُ وَكَانَ تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا أَفَيَصْلُحُ لِي أَنْ أَكْتَحِلَ؟ فَقَالَتْ: «وَاللهِ لَا آمُرُكِ بِشَيْءٍ نَهَى اللهُ وَرَسُولُهُ عَنْهُ»ترجمہ
ماویہ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا اور کہا: میری آنکھ اس سرمے کی عادی ہو چکی ہے جس میں خوشبو ملی ہوتی ہے، اور اس کا شوہر فوت ہو چکا تھا، تو کیا میرے لیے سرمہ لگانا جائز ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں تمہیں اس چیز کا حکم نہیں دوں گی جس سے اللہ اور اس کے رسول نے منع کیا ہے۔“