المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
صفية بنت أبي عبيد، عن أم سلمة باب: صفیہ بنت ابی عبید کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 20309
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ذَكَرَ فِي الْإِزَارِ مَا ذَكَرَ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ فَكَيْفَ النِّسَاءُ؟ قَالَ: «يُرْخِينَ شِبْرًا» قَالَتْ: إِذَنْ تَبْدُو أَقْدَامُهُنَّ، قَالَ: «فَذِرَاعٌ لَا يَزِدْنَ عَلَيْهِ»ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے تہبند کے بارے میں جو فرمانا تھا فرمایا، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! عورتیں کیا کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک بالشت لٹکا لیں۔“ انہوں نے عرض کیا: اس طرح تو ان کے پاؤں کھل جائیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر ایک ہاتھ لٹکا لیں، اس سے زیادہ نہ بڑھائیں۔“