حدیث نمبر: 20307
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعْدٍ الْأَيْلِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ رُومَانَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَ عِنْدِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَاسْتَيْقَظَ وَعَيْنَاهُ مُحْمَرَّتَانِ، فَقَالَ فَانْفَضَّ رَأْسُهُ: «وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ» فَقُلْتُ: وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «فُتِحَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ» ، وَعَقَدَ عَشْرَةً، قَالَتْ: لَا أَدْرِي أَمِثْلَ الْحَلْقَةِ أَوْ مِثْلَ الْأُنْمُلَةِ قُلْتُ: أَتَخَافُ عَلَيْنَا يَا رَسُولَ اللهِ الْهَلَاكَ وَفِينَا الصَّالِحُونَ؟ فَقَالَ: «نَعَمْ إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ» . فَقَالَتْ أُمُّ رُومَانَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَحَدَّثَنِيهِ كَمَا قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ
ترجمہ

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ ایک دن میرے پاس تھے کہ آپ ﷺ بیدار ہوئے اور آپ ﷺ کی آنکھیں سرخ تھیں، تو آپ ﷺ نے اپنا سر جھٹکتے ہوئے فرمایا: ”عربوں کے لیے اس شر سے تباہی ہو جو قریب آ چکا ہے۔“ میں نے عرض کیا: یہ کیا ہے، یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یاجوج و ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہو چکا ہے،“ اور آپ ﷺ نے دس کا عدد بنایا۔ مجھے معلوم نہیں کہ حلقے جیسا تھا یا پور جیسا۔ میں نے عرض کیا: کیا آپ ہمارے ہلاک ہونے کا خدشہ رکھتے ہیں، یا رسول اللہ! جبکہ ہم میں نیک لوگ بھی موجود ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، جب خباثت زیادہ ہو جائے۔“
ام رومان کہتی ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ حدیث پوچھی تو آپ ﷺ نے مجھے وہی بیان فرمائی جو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کی تھی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20307
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 416، حدیث 1005