حدیث نمبر: 20303
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ غُلَيْبٍ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ هَارُونَ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى أَبْعِرَةً فِي بَعْضِهَا جَرَسٌ، فَلَمَّا سَمِعَ صَوْتَهُ قَالَ: «مَا هَذَا؟» قَالَ رَجُلٌ: الْجُلْجُلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَمَا الْجُلْجُلُ؟» ، قَالَ: الْجَرَسُ، قَالَ: «نَعَمْ فَاذْهَبْ فَاقْطَعْهُ ثُمَّ ارْمِ بِهِ» ، فَفَعَلَ، ثُمَّ رَجَعَ الرَّجُلُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا لَهُ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَصْحَبُ رُفْقَةً فِيهَا جَرَسٌ» .
ترجمہ

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ اونٹ دیکھے جن میں سے بعض پر گھنٹی بندھی تھی، جب آپ ﷺ نے اس کی آواز سنی تو فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ ایک شخص نے کہا: جلجل (چھوٹی گھنٹی)۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جلجل کیا ہوتا ہے؟“ اس نے کہا: گھنٹی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، جاؤ اسے کاٹ کر پھینک دو۔“ اس نے ایسا ہی کیا، پھر وہ شخص واپس آیا اور کہا: یا رسول اللہ! اسے کیا ہوا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”فرشتے اس قافلے کے ساتھ نہیں رہتے جس میں گھنٹی ہو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20303
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 415، حدیث 1001