المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
حميد بن نافع، عن زينب باب: حمید بن نافع کی زینب سے روایات
حدیث نمبر: 20291
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ ابْنَةٌ لِي زَوَّجْتُهَا فَأَصَابَتْهَا الْحَصْبَةُ فَمَرَقَ شَعْرُهَا وَنَحْنُ نُرِيدُ أَنْ نُدْخِلَهَا عَلَى زَوْجِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَعَنَ اللهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ»ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میری ایک بیٹی ہے جس کی میں نے شادی کی تھی، اسے خسرہ ہو گیا جس سے اس کے بال جھڑ گئے، اور ہم چاہتے ہیں کہ اسے اس کے شوہر کے پاس رخصت کریں، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ بال جوڑنے والی اور بال جڑوانے والی پر لعنت کرے۔“