المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
الأعرج عن أبي سلمة عن زينب بنت أبي سلمة عن أم سلمة باب: اعرج کی ابوسلمہ کے واسطے سے، سیدہ زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا کے واسطے سے، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَا: ثنا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ أَسْلَمَ، يُقَالُ لَهَا سُبَيْعَةُ كَانَتْ تَحْتَ زَوْجِهَا فَتُوُفِّيَ عَنْهَا وَهِيَ حُبْلَى، فَخَطَبَهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ فَأَبَتْ أَنْ تَنْكِحَهُ، فَقَالَ: مَا يَصْلُحُ أَنْ تَنْكِحِي حَتَّى تَعْتَدِّي آخِرَ الْأَجَلَيْنِ، فَمَكَثَتْ مِنْ عِشْرِينَ لَيْلَةً ثُمَّ نُفِسَتْ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «انْكِحِي» . وَكَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ طُلِّقَتِ الْبَتَّةَ، أَنَّهُ أَمَرَهَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِنَّهُ أَعْمَى تَضَعُ عِنْدَهُ ثِيَابَهَا قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا، وَكَانَ مُحَمَّدُ بْنُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ يُحَدِّثُ، أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا ذَكَرَتْ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا رَمَاهَا أُسَامَةُ بِمَا كَانَ فِي يَدِهِاس نے کہا: تمہارے لیے یہ جائز نہیں کہ تم نکاح کرو جب تک دونوں مدتوں میں سے آخری مدت پوری نہ کر لو، تو وہ بیس راتیں ٹھہری رہی، پھر اسے نفاس آ گیا، تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نکاح کر لو۔“
اور سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا کرتی تھیں کہ جب وہ طلاقِ بتہ سے مطلقہ ہوئیں تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر منتقل ہو جائیں، کیونکہ وہ نابینا تھے، وہ عدت پوری ہونے سے پہلے ان کے پاس اپنے کپڑے اتار سکتی تھیں۔ اور محمد بن اسامہ بن زید بیان کیا کرتے تھے کہ وہ جب بھی اس بات کا ذکر کرتیں تو اسامہ ان کی طرف جو کچھ ان کے ہاتھ میں ہوتا پھینک دیتے۔