حدیث نمبر: 20276
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَيْمَنَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: لَمَّا خَطَبَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ لَهُ: فِيَّ خِلَالٌ ثَلَاثٌ، أَنَا كَبِيرَةُ السِّنِّ، وَأَنَا امْرَأَةٌ مُطَفَّلٌ، وَأَنَا امْرَأَةٌ شَدِيدَةُ الْغَيْرَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّا الْأَطْفَالُ فَهُمْ إِلَى اللهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، وَأَمَّا الْغَيْرَةُ فَأَدْعُو اللهَ أَنْ يُذْهِبَهَا عَنْكِ، وَأَمَّا السِّنُّ فَأَنَا أَكْبَرُ مِنْكِ سِنًّا» ، فَتَزَوَّجَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تُرْضِعُ بِنْتَهَا زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ وَيَخْرُجُ وَلَا يَقْرَبُهَا، وَكَانَ يُمَازِحُ ابْنَتَهَا إِذَا دَخَلَ، فَدَخَلَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، فَقَالَ: أَيْنَ ابْنَتَكُمْ هَذِهِ الَّتِي قَدْ شَغَلَتْ أَهْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَهَا فَاسْتَرْضَعَ لَهَا سَعْيًا فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَيْنَ زُنَابُ؟» ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ: دَخَلَ عَمَّارٌ فَأَخَذَهَا فَاسْتَرْضَعَ لَهَا سَعْيًا، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَهْلِهِ
ترجمہ

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب نبی کریم ﷺ نے مجھے نکاح کا پیغام دیا تو میں نے عرض کیا: مجھ میں تین خصلتیں ہیں: میں عمر رسیدہ ہوں، میں ایک ایسی عورت ہوں جس کے چھوٹے بچے ہیں، اور میں شدید غیرت مند عورت ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بچوں کا معاملہ اللہ اور اس کے رسول پر ہے، رہی غیرت تو میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اسے تم سے دور کر دے، اور رہی عمر تو میں تم سے بڑا ہوں۔“ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے ان سے نکاح کر لیا جبکہ وہ اپنی بیٹی زینب بنت ابی سلمہ کو دودھ پلا رہی تھیں، تو نبی کریم ﷺ آتے جاتے رہتے مگر ان کے قریب نہ ہوتے، اور جب اندر آتے تو ان کی بیٹی کے ساتھ کھیلتے۔ پھر عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اندر آئے اور کہا: تمہاری یہ بیٹی کہاں ہے جس نے نبی کریم ﷺ کے گھر والوں کو مشغول کر رکھا ہے؟ تو انہوں نے اسے لیا اور اس کے لیے سَعیَہ میں دودھ پلانے کا انتظام کر دیا، پھر نبی کریم ﷺ اندر آئے تو فرمایا: ”زُنَاب کہاں ہے؟“ ایک عورت نے عرض کیا: عمار آئے تھے، وہ اسے لے گئے اور سَعیَہ میں اس کے لیے دودھ پلانے کا انتظام کر دیا۔ تو نبی کریم ﷺ اپنی اہلیہ کے پاس اندر تشریف لے گئے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20276
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 406، حدیث 974