المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
ثابت مولى أم سلمة، عن أم سلمة باب: ثابت، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام، کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهُ نَزَلَ فِي بَنِي الْمُصْطَلِقِ فِي شَأْنِ مَا صَنَعَ بِهِمْ عَامِلُهُمُ الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأٍ فَتَبَيَّنُوا} [الحجرات: ٦] الْآيَةَ قَالَتْ: " وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَيْهِمْ يَصْدُقُ أَمْوَالَهُمْ، فَلَمَّا سَمِعُوا بِهِ أَقْبَلَ رَكْبٌ مِنْهُمْ فَقَالُوا: نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْمِلُهُ، فَلَمَّا سَمِعَ بِذَلِكَ ظَنَّ أَنَّهُمْ سَارُوا إِلَيْهِ لِيَقْتُلُوهُ فَرَجَعَ فَقَالَ: إِنَّ بَنِي الْمُصْطَلِقِ مَنَعُوا صَدَقَاتَهُمْ يَا رَسُولَ اللهِ، وَأَقْبَلَ الْقَوْمُ حَتَّى قَدِمُوا الْمَدِينَةَ ثُمَّ صَفُّوا وَرَاءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّفِّ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ انْصَرَفُوا، فَقَالُوا: إِنَّا نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ غَضَبِ اللهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ، سَمِعْنَا يَا رَسُولَ اللهِ بِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ يَصْدُقُ أَمْوَالَنَا فَسُرِرْنَا بِذَلِكَ وَقَرَّتْ بِهِ أَعْيُنُنَا، وَأَرَدْنَا أَنْ نَلْقَاهُ وَنَسِيرُ مَعَ رَسُولِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعْنَا أَنَّهُ رَجَعَ فَخَشِينَا أَنْ يَكُونَ رَدَّهُ غَضَبٌ مِنَ اللهِ وَرَسُولِهِ، فَلَمْ يَزَالُوا يَعْتَذِرُونَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ "سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بنو مصطلق کے بارے میں، جو سلوک ان کے عامل ولید بن عقبہ نے ان کے ساتھ کیا تھا، یہ آیت نازل ہوئی: ”اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کر لیا کرو۔“ [سورۃ الحجرات: 6] وہ فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ان کی طرف کسی کو بھیجا تھا کہ ان کے اموال کی زکوٰۃ وصول کرے۔ جب انہوں نے اس کا سنا تو ان میں سے ایک سوار جماعت آگے بڑھی اور کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے قاصد کے ساتھ چلیں گے اور اسے بٹھائیں گے۔ جب اس (ولید) نے یہ سنا تو اسے گمان ہوا کہ وہ اسے قتل کرنے کے لیے آ رہے ہیں، تو وہ واپس لوٹ گیا اور کہا: یا رسول اللہ! بنو مصطلق نے اپنی زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اور وہ قوم آگے بڑھی یہاں تک کہ مدینہ پہنچ گئی، پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے صف میں کھڑے ہو گئے۔ جب آپ ﷺ نے نماز پوری کی تو وہ رخصت ہوئے اور کہا: ہم اللہ کی اور اس کے رسول کی ناراضی سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ یا رسول اللہ! ہم نے آپ کے اس قاصد کے بارے میں سنا جسے آپ نے ہمارے اموال کی زکوٰۃ لینے کے لیے بھیجا تھا، تو ہم اس سے خوش ہوئے اور ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں، اور ہم نے چاہا کہ ہم اس سے ملیں اور رسول اللہ ﷺ کے قاصد کے ساتھ چلیں، پھر ہم نے سنا کہ وہ واپس لوٹ گیا ہے تو ہمیں ڈر ہوا کہ کہیں اس کا واپس لوٹنا اللہ اور اس کے رسول کی ناراضی کی وجہ سے نہ ہو۔ چنانچہ وہ نبی کریم ﷺ سے معذرت کرتے رہے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی۔