حدیث نمبر: 20261
حَدَّثَنَا مُصْعَبٌ، ثنا أَبِي، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ بْنِ نَشِيطٍ، عَنْ ثَابِتٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ إِلَى بَيْتِهَا، فَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ: مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِكِ، فَقَالَتْ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ «يُصَلِّي بَعْدَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ فَقَدِمَ عَلَيْهِ وَفْدُ بَنِي الْمُصْطَلِقِ فِي شَأْنِ مَا صَنَعَ بِهِمْ عَامِلُهُمُ الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ، فَلَمْ يَزَالُوا يَعْتَذِرُونَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَاءَ الْمُؤَذِّنُ يَدْعُوهُ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ، فَصَلَّى الْمَكْتُوبَةَ، ثُمَّ صَلَّى عِنْدِي فِي بَيْتِي تِلْكَ الرَّكْعَتَيْنِ مَا صَلَّاهُمَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ»
ترجمہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف پیغام بھیجا: یہ کون سی نماز ہے جو نبی کریم ﷺ نے تمہارے گھر میں پڑھی؟ تو انہوں نے فرمایا: نبی کریم ﷺ ظہر کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے، پھر بنو مصطلق کا ایک وفد ان کے عامل ولید بن عقبہ کے ان کے ساتھ کیے گئے سلوک کے بارے میں آپ ﷺ کے پاس آیا، اور وہ نبی کریم ﷺ سے معذرت کرتے رہے یہاں تک کہ مؤذن آپ ﷺ کو عصر کی نماز کے لیے بلانے آ گیا، تو آپ ﷺ نے فرض نماز پڑھی، پھر میرے پاس میرے گھر میں وہ دو رکعتیں پڑھیں جو نہ اس سے پہلے کبھی پڑھی تھیں اور نہ بعد میں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20261
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 400، حدیث 959