المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أبو عطية الطفاوي، عن أم سلمة باب: ابوعطیہ طفاوی کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو ظَفَرٍ عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُطَهَّرٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَوْفٍ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا عَوْفٌ، عَنْ عَطِيَّةَ أَبِي الْمُعَذِّلِ الطُّفَاوِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهَا وَفِي بَيْتِهَا ذَاتَ يَوْمٍ فَجَاءَتِ الْخَادِمُ فَقَالَتْ: إِنَّ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ بِالسُّدَّةِ، فَقَالَ: «تَنَحِّي لِي عَنْ أَهْلِ بَيْتِي» ، فَتَنَحَّيْتُ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ وَجَاءَ عَلِيٌّ وَفَاطِمَةُ وَحَسَنٌ وَحُسَيْنٌ وَهُمَا صِبْيَانِ صَغِيرَانِ، فَأَخَذَ حَسَنًا وَحُسَيْنًا وَوَضَعَهُمَا فِي حِجْرِهِ، وَأَخَذَ عَلِيًّا بِإِحْدَى يَدَيْهِ فَضَمَّهُ إِلَيْهِ، وَغَدَقَ عَلَيْهِمْ قَطِيفَةً سَوْدَاءَ ثُمَّ، قَالَ: «اللهُمَّ إِلَيْكَ لَا إِلَى النَّارِ أَنَا وَأَهْلُ بَيْتِي» ، قَالَتْ: فَنَادَيْتُهُ، فَقُلْتُ: وَأَنَا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «وَأَنْتِ»سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ ایک دن ان کے پاس ان کے گھر میں تشریف فرما تھے کہ خادمہ آئی اور بولی: علی اور فاطمہ دروازے پر ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے اہلِ بیت کے لیے میری طرف سے ذرا الگ ہو جاؤ۔“ تو میں گھر کے ایک کونے میں ہٹ گئی، اور علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم آئے، اور وہ دونوں چھوٹے بچے تھے، تو آپ ﷺ نے حسن اور حسین کو لے کر اپنی گود میں بٹھا لیا، اور علی کو اپنے ایک ہاتھ سے پکڑ کر اپنے قریب کر لیا، اور ان سب پر ایک کالی چادر ڈال دی، پھر فرمایا: ”اے اللہ! میں اور میرے اہلِ بیت تیری طرف ہیں، جہنم کی طرف نہیں۔“ میں نے آپ کو پکارا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اور میں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور تم بھی۔“