المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
نافع مولى أم سلمة، عن أم سلمة باب: نافع، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام، کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 20217
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ عِمْرَانَ السَّدُوسِيُّ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ بَعَثَهُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَ: فَلَقِيتُ غُلَامَهَا نَافِعًا فَأَرْسَلَهُ إِلَيْهَا فَسَأَلَهَا، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ فَأَنْبَأَهُ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ «يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ، ثُمَّ يُصْبِحُ صَائِمًا»ترجمہ
عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مروان بن حکم نے انہیں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا، وہ کہتے ہیں: میں ان کے غلام نافع سے ملا تو میں نے اسے ان کے پاس بھیجا، اس نے ان سے پوچھا، پھر وہ ان (عبدالرحمٰن) کے پاس واپس آیا اور بتایا کہ انہوں نے اسے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ جماع کی وجہ سے حالتِ جنابت میں صبح کرتے، بغیر احتلام کے، پھر روزہ دار ہو کر صبح کرتے تھے۔